21 مئی 2026 - 13:32
عرب رہنماؤں کی درخواست کا ٹرمپی دعویٰ جھوٹا نکلا

ٹرمپ نے عرب ممالک کے جن رہنماؤں کی درخواست کے بہانے ایران پر حملہ ملتوی کرنے کا دعویٰ کیا تھا؛ لیکن مذکورہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں ٹرمپ کی طرف سے ایران پر کسی حملے اطلاع ہی نہیں تھی، تو وہ درخواست کیونکر دے سکتے تھے۔ / ایرانی اور مغربی ذرائع کے مطابق، اب کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی فضائیہ کو غیر متوقعہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اگر 40 روزہ جنگ میں ایف-35 سمیت 42 امریکی طیارے گر گئے تو اگلی جنگ میں ان طیاروں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے جو ایرانی ایئرڈیفنس کی زد میں آئیں گے اور ان میں امریکہ کے اسٹراٹیجک بمبار طیارے بھی شامل ہونگے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس نے ایران پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا اور لیکن عرب ممالک کے رہنماؤں نے اس سے درخواست کی ہے کہ "مذاکرات جاری ہیں اور نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں، چنانچہ اس نے اس حملے کے ملتوی کر دیا ہے۔

لیکن مذکورہ عرب رہنماؤں نے کہا کہ انہیں ٹرمپ کی طرف سے ایران پر کسی حملے اطلاع ہی نہیں تھی، تو وہ درخواست کیونکر دے سکتے تھے۔

حال ہی جھوٹے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران پر اپنا منصوبہ بند حملہ امیر قطر، سعودی ولیعہد اور اماراتی صدر کی درخواست پر، روک لیا ہے۔

امریکی-اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "ایکسیوس" ـ جو امریکی صدر کے افکار ڈرائیو کرنے کے حوالے سے بدنام ہے، نے بھی باخبر امریکی عہدیداروں کےحوالے سے لکھا: "ٹرمپ نے حملہ روکنے کے اپنے اعلان سے قبل، ایران پر حملے کا فیصلہ ہی نہیں کیا تھا!۔"

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا! کسی نے درست کہا ہے کہ حملہ نہ کرنے کے لئے ٹرمپ کے پاس بہانے بہت ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔

مثال کے طور پر ایران کے ایئریفنس سسٹم کی کامیابیوں کو بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے اور ایرانی اور مغربی ذرائع کے مطابق، اب کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی فضائیہ کو غیر متوقعہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اگر 40 روزہ جنگ میں ایف-35 سمیت 42 امریکی طیارے گر گئے تو اگلی جنگ میں ان طیاروں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے جو ایرانی ایئرڈیفنس کی زد میں آئیں گے اور ان میں امریکہ کے اسٹراٹیجک بمبار طیارے بھی شامل ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

عرب رہنماؤں کی درخواست کا ٹرمپی دعویٰ جھوٹا نکلا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha